Torah Holy Book In Urdu |top| Today

بنی اسرائیل کے صحرائے سینا میں چالیس سالہ سفر اور ان کی مردم شماری کا احوال۔

خلاصہ یہ ہے کہ توریت ایک عظیم تاریخی اور مذہبی اثاثہ ہے۔ اردو زبان میں اس کا مطالعہ نہ صرف تاریخ کے طالب علموں کے لیے فائدہ مند ہے، بلکہ یہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان علمی مکالمے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔

تورات (Torah) تاریخِ انسانی کی وہ اہم ترین کڑی ہے جس نے دنیا کے اخلاقی اور قانونی نظام پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اردو زبان میں اس کا مطالعہ نہ صرف مسلمانوں کو اپنے ایمانی اصولوں (آسمانی کتابوں پر ایمان) کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، بلکہ تقابلِ ادیان کے طالب علموں کے لیے یہ ایک وسیع علمی ذخیرہ فراہم کرتا ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہم اصل تورات کے الٰہی کتاب ہونے پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اس کے احترام کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ torah holy book in urdu

'Urdu Bible' نامی ویب سائٹس پر جا کر آپ سفرِ پیدائش سے لے کر سفرِ استثنا تک تمام ابواب آن لائن پڑھ سکتے ہیں۔ کلمہءِ اختتام

مذہبی قوانین، عبادات اور قربانی کے احکام۔ torah holy book in urdu

These five books cover a vast narrative arc, from the creation of the world to the death of Prophet Moses (peace be upon him) on the edge of the Promised Land.

جدید دور میں مسلم محققین اور تقابلِ ادیان (Comparative Religion) کے ماہرین نے بھی تورات کے اردو تراجم شائع کیے ہیں۔ ان تراجم کا مقصد مسلم اسکالرز کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ موجودہ تورات میں کیا لکھا ہے اور قرآن کے ساتھ اس کا کیا موازنہ ہے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری اور دیگر علماء نے اس میدان میں کام کیا ہے۔ torah holy book in urdu

کائنات کی تخلیق اور انبیاء کا ابتدائی احوال۔

آسمانی کتب میں سے ایک انتہائی اہم اور قدیم کتاب ہے، جسے یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں الہامی حیثیت حاصل ہے۔ اردو زبان بولنے والے قارئین کے لیے تورات کا مطالعہ، اس کی تعلیمات اور تاریخی پس منظر کو سمجھنا روحانی اور علمی لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

The word Taurat is derived from the Hebrew root Torah , meaning "instruction" or "law." In Urdu Islamic discourse, the Taurat is revered as one of the four major divine books revealed by God (Allah). It is described in the Quran as the book revealed to Prophet Musa (Moses), known in Urdu as Kalam-e-Musa (The Speech of Moses).